اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شام کے وزيرخارجہ وليد معلم نے کہا ہے کہ دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف ہر قسم کی کارروائی شام کی حکومت کے ساتھ ہماہنگی کے ساتھ انجام پانی چاہیے اور امريکہ اور اس اتحادیوں کے پاس اس کے علاوہ کوئي اور چارہ نہيں ہے۔
الميادين ٹي وي چينل کے ساتھ ايک گفتگو کے دوران شام کے وزير خارجہ وليد معلم نے يہ بات زور دے کر کہي کہ شام، سلامتي کونسل کي قرار داد نمبر "دوہزار ايک سو ستر" کي بنياد پر دہشت گردي کے خلاف ہر اقدام کي حمايت کرتا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ شام دہشت گردوں کے خلاف عملي جدوجہد کي بنا پر داعش کي نقل و حرکت اور ٹھکانوں سے اچھي طرح واقف ہے اور داعش کے خلاف حملوں ميں عام شہريوں کي جانوں کے تحفظ کو ضروري سمجھتا ہے۔
وليد معلم نے اقوام متحدہ کے جنرل سيکريٹري بان کي مون کے اس بيان کو تعجب خيز قرار ديا کہ داعش کے ان ہي ٹھکانوں پر ہوائي حملے کئے جارہے ہيں جو شام کي حکومت کے کنٹرول ميں نہيں ہيں، وليد معلم نے کہا کہ ايسا کوئي علاقہ نہيں ہے جو شام کے اقتدار اعلي سے باہر ہو۔ وليد معلم نے کہا کہ بان کي مون کا يہ بيان اقوام متحدہ کے منشور سے کھلا تضاد رکھتا ہے- انہوں نے کہا کہ عام شہريوں کي جان مال کا تحفظ شام کي حکومت کي پہلي ترجيح ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲